الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
باب باب: قرض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ وَفِي لَفْظٍ يَتَقَاضَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَأَغْلَظَ لَهُ قَالَ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا قَالَ اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ وَفِي لَفْظٍ الْتَمِسُوا لَهُ مِثْلَ سِنِّ بَعِيرِهِ قَالُوا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ قَالَ فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اونٹ کے قرض کی ادائیگی کامطالبہ کردیا اور سخت رویہ اختیار کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے ساتھ کوئی کاروائی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑدو، جس نے حق لیناہوتاہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اونٹ خرید کر اس کو ادا کرو۔ صحابہ نے کہا:اس کے اونٹ سے بہتر عمر والا اونٹ ہی میسر آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی خرید کر دے دو، بے شک بہتر وہی ہے، جو قرض کی ادائیگی اچھے انداز میں کرتاہے۔ دیہاتی نے کہا:آپ نے مجھے میرے حق سے زیادہ دیا ہے، اللہ تعالی بھی آپ کو زیادہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے، جو بہتر طورپر قرض ادا کرتا ہے۔