الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
باب باب: قرض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6010
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَضَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر اس سے تیس یا چالیس ہزار درہم قرض لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے تو اس کو قرضہ اداکیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی آپ کے اہل اور مال میں برکت دے، ادھار کا صلہ یہی ہے کہ اسے پوراپورا واپس کیاجائے اور اس کی تعریف کرکے شکریہ ادا کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … قرض کی ادائیگی کے وقت قرض خواہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔