حدیث نمبر: 6006
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي السَّلَفِ فِي حَبْلِ الْحَبَلَةِ رِبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمل کے حمل کا ادھار کے ساتھ سودا کرنا سود ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی حاملہ اونٹنی کے مالک کو قیمت ادا کرے اور کہے کہ میں اِس اونٹنی کے حمل کا حمل خرید رہا ہوں، یہ معاملہ اس اعتبار سے سود کے مشابہ ہے کہ یہ سود کی طرح حرام ہے، کیونکہ بائع ایسی چیز بیچ رہا ہے جو نہ تو اس کے پاس ہے اور نہ وہ اس کو سپرد کرنے پر قدرت رکھتاہے، پس اس سودے میں غرر اور دھوکہ ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا بیع سلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حدیث کا بیع سلم/ سلف کے ساتھ اس طرح تعلق ہوسکتا ہے کہ
اس میں وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ اگر وقت طے نہ کیا جائے تو بیع سلم جائز نہیں اور حبل الحبلۃ میں وقت مجہول ہوتا ہے، اسی طرح اگر حبل الحبلۃ کی بیع ہوگی تو عین بھی مجہول ہوگا۔ اس لیے سلف میں حبل الحبلۃ تک وقت مقرر کرنا ٹھیک نہیں اور عین مجہول ہونے کی وجہ سے حبل الحبلۃ کی بیع بھی جائز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6006
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 7/ 293 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2145»