حدیث نمبر: 6004
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَلَا تُسْلِمَنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ فَقَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے ایک آدمی سے کھجوریں خریدیں، لیکن اس سال انہیں پھل ہی نہیں لگا، پس وہ دونوں فیصلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے درہم کو اپنے لئے کیسے حلال سمجھتا ہے؟اس کے درہم اس کو واپس لوٹادے، کھجور میں ہر گز بیع سلم نہ کیا کرو، جب تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے۔ راوی کہتا ہے: میں نے مسروق سے پوچھا کہ صلاحیت کے ظہور کا کیا مطلب ہے، انھوں نے کہا: پھل کا سرخ یازرد ہوجانا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، نیز بیع سلم کا پھلوں کے پکنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6004
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة النجراني۔ أخرجه ابوداود: 3467، وابن ماجه: 2284 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6316»