عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَلَا تُسْلِمَنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ فَقَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی نے ایک آدمی سے کھجوریں خریدیں، لیکن اس سال انہیں پھل ہی نہیں لگا، پس وہ دونوں فیصلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے درہم کو اپنے لئے کیسے حلال سمجھتا ہے؟اس کے درہم اس کو واپس لوٹادے، کھجور میں ہر گز بیع سلم نہ کیا کرو، جب تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے۔ راوی کہتا ہے: میں نے مسروق سے پوچھا کہ صلاحیت کے ظہور کا کیا مطلب ہے، انھوں نے کہا: پھل کا سرخ یازرد ہوجانا۔