حدیث نمبر: 60
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ: ((اللَّهُ)) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: ((اللَّهُ)) قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: ((اللَّهُ)) قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ! آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَدَقَ)) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا؟ قَالَ: ((صَدَقَ)) قَالَ: ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”زمین کو کس نے پیدا کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوٰۃ فرض ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پھر کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور جنت میں داخل ہو گا۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 60
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 63، ومسلم: 12 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12484»