حدیث نمبر: 5992
عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ فَقَالَ لَهُ بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ أَفَعَلْتَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ قِيلَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معمر بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک غلام کوبھیجا کہ وہ گندم کا ایک صاع لے جائے اور اسے پہلے فروخت کرے اور پھر اس کے عوض جَو خرید کر لائے، پس وہ غلام گیا اور ایک صاع سے زیادہ جو خرید کر آ گیا، جب وہ سیدنا معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اورسودے کے بارے میں ان کو بتایا تو انھوں نے پوچھا: کیا تو واقعی اس طرح کر کے آیا ہے؟ واپس چل اور یہ سودا واپس کر دے اور اس کے عوض برابر برابر ہی لینا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اناج کے بدلے اناج فروخت کرتے وقت برابر برابر ہو۔ اس وقت ہمارا کھانا جَو ہوتا تھا، کسی نے کہا: یہ تو ہم جنس ہی نہیں ہے، لیکن سیدنا معمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے مشابہت ہو جائے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ محض سیدنا معمر رضی اللہ عنہ کی احتیاط تھی،وگرنہ جب جنس مختلف ہو جائے تو اس میں کمی بیشی کی کھلی اجازت ہے، جیسا کہ ’’ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے‘‘ کے باب میں تفصیل گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الربا / حدیث: 5992
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27792»