حدیث نمبر: 5990
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ خَيْبَرَ فَبَاعَ الْيَهُودُ الْأُوقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، یہودیوں نے ایک اوقیہ کے برابر سونا دو دو اور تین تین دیناروں کے عوض فروخت کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا فروخت نہ کیا کرو، الا یہ کہ برابر برابر ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ سونے کے عوض ایسی چیز خریدنا ہو، جس میں سونا بھی ہو اور کوئی اور چیز بھی ہو، یا چاندی کے عوض ایسی چیز خریدنا ہو، جس میں چاندی بھی ہو اور کوئی اور چیز بھی، تو اس چیز کے دو سودے ہوں گے، اس میں لگے ہوئے سونے کا الگ سے سودا ہو گا اور اس کے عوض اس کی مقدار کے برابر سونا دینا ہو گا اور دوسری چیز کا الگ سے سودا ہو گا، علی ہذا القیاس۔ بطورِ مثال سونے اور چاندی کا ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ یہی مسئلہ ربا الفضل کی باقی اجناس میں بھی ہو سکتا ہے، مثلاً گندم کے عوض گندم اور جو خریدنا، اس موقع پر بھی گندم کا علیحدہ سودا ہو گا اور جَو کا علیحدہ، شریعت کا مدعا یہ ہے کہ کہیں بھی ربا الفضل نہ گھسنے پائے، اگر قارئین کو یہ اصطلاحات اور مسائل سمجھ نہ آئیں تو وہ اہل علم سے رابطہ کر کے دین کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الربا / حدیث: 5990
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1591 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24468»