الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد باب: نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرَّبْعِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ قَالَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى وَالشَّيْخُ حَيٌّ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَنْ رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ سلیمان بن علی ربعی کہتے ہیں: ابو جوز ا ء نے ہمیں کئی بار بیان کیاہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کے بدلے دو ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ہوں، جب میں اگلی بار حج کے لیے گیا تو یہ بزرگ ابھی تک زندہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور بیع صرف کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، انھوں نے کہا: وزن میں برابر ہونا چاہیے، میں نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتوی دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی ہو سکتے ہیں، میں اس وقت سے یہی فتوی دیتا رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ میری رائے تھی، اب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاہے (کہ یہ سود ہے)، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے اپنی رائے چھوڑ دی ہے۔