الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد باب: نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
عَنْ ذَكْوَانَ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُلْ لَهُ فِي الصَّرْفِ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ أَوْ قَرَأْتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَمْ نَقْرَأْ قَالَ بِكُلٍّ لَا أَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا إِلَّا فِي الدَّيْنِ أَوْ قَالَ فِي النَّسِيئَةِ۔ ذکوان کہتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا اور کہا:ان سے بیع صرف کے بارے میں پوچھنا کہ آیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جو ہم نہیں سن پائے یا تم نے اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی ایسی چیز پڑھی ہے، جو ہم نہیں پڑھ سکے؟ انہوں نے جواباً کہا: میں ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کرتا، بات یہ ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔