الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد باب: نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
عَنْ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَازَنِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ وَالدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمِ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحِلُّهُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الرِّبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ أَوِ النَّظِرَةِ۔ یحییٰ بن قیس مازنی کہتے ہیں: میں نے امام عطاء سے سوال کیا کہ جب دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کی تجارت کی جا رہی ہو تو ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کو حلال قرار دیتے تھے، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہمانے کہا: سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما وہ امور بیان کرتے ہیں،جو انھوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنے، پس جب یہ بات اُن تک پہنچی تو انھوں نے کہا: واقعی میں نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی، البتہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔