الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى جَوَازُ التَّفَاضُل فِي الْجِنْسِ إِذَا كَانَ يدا بيد باب: نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
حدیث نمبر: 5983
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا رِبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک جنس کے تبادلہ کے وقت ایک طرف سے زیادتییا کمی کی صورت میں کوئی سود نہیں ہوتا، لیکن اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے کہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کیا جائے گا، جیسا امام نووی نے شرح مسلم میں کہا اور امام خطابی نے (اعلام الحدیث: ۲/ ۱۰۶۷) میں کہا: اہل علم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ یہ صرف حدیث کا آخری حصہ سن سکے ہیں، پہلا حصہ اِن سے رہ گیا تھا، اس کی صورت یہ بنتی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے بدلے جو کییا گندم کے بدلے کھجور کییا سونے کے بدلے چاندی کی تفاضل کے ساتھ بیعکرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا الرِّبَا فِیْ النَّسِیْئَۃِ۔)) … ’’سود تو صرف ادھار میں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اس قسم کے مسئلے میں ادھار میں سود پایا جائے گا، یعنی جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو ان میں تفاضل تو جائز ہے، بشرطیکہ وہ نقد و نقد ہوں، ہاں جب ان میں ادھار گھس آیا تو سود لازم آئے گا۔ یہ توجیہ اور معنی اس بنا پر کیا گیا ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مفہوم کے بر خلاف امت کا اجماع ہو چکا ہے۔ اگر امام خطابی کی تاویل نہ کی جائے اور کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں صرف ربا النسیئہ کو حرام قرار دیا ہے تو دوسری خاص نصوص کی روشنی میں ربا الفضل کو بھی ممنوع قرار دیا جائے گا۔
یہ توجیہ کرنے کی اصل بنیاد تو یہ ہے کہ ربا الفضل کی صورت احادیث کے لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے اس لیےیہ ممکن نہیں ہے کہ عام لحاظ سے کہا جائے کہ سود صرف ادھار میں ہے۔ اہل علم ’’سود تو صرف ادھار میں ہے‘‘ کی ایک توجیہیہ بھی کرتے ہیں کہ سود کا بڑا حصہ یہ زیادہ تر سود ادھار میں ہے، یہ مقصد نہیں کہ ادھار کے علاوہ سود کی کوئی صورت نہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ شاعر تو صرف فلان ہے، خطیب تو صرف فلان ہے۔ اس سے مقصد دوسرے لوگوں کی شاعری اور خطابت کی نفی نہیں بلکہ کمال درجہ کا شاعر اور خطیب مراد ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
یہ توجیہ کرنے کی اصل بنیاد تو یہ ہے کہ ربا الفضل کی صورت احادیث کے لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے اس لیےیہ ممکن نہیں ہے کہ عام لحاظ سے کہا جائے کہ سود صرف ادھار میں ہے۔ اہل علم ’’سود تو صرف ادھار میں ہے‘‘ کی ایک توجیہیہ بھی کرتے ہیں کہ سود کا بڑا حصہ یہ زیادہ تر سود ادھار میں ہے، یہ مقصد نہیں کہ ادھار کے علاوہ سود کی کوئی صورت نہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ شاعر تو صرف فلان ہے، خطیب تو صرف فلان ہے۔ اس سے مقصد دوسرے لوگوں کی شاعری اور خطابت کی نفی نہیں بلکہ کمال درجہ کا شاعر اور خطیب مراد ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)