الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ وَهُوَ بَيْعُ الْوَرَقِ بِالذَّهَبِ نَسِينَةٌ يَعْنِي دينا باب: بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
حدیث نمبر: 5978
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ صَرَفْتُ عِنْدَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرِقًا بِذَهَبٍ فَقَالَ أَنْظِرْنِي حَتَّى يَأْتِيَنَا خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ قَالَ فَسَمِعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ عَنْهُ صَرْفَهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں: میں نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاندی کی سونے کے عوض بیع صرف کی، انہوں نے کہا: غابہ سے میرا منشی واپس آنے تک مجھے مہلت دو، لیکن ان کی یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سن لی اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تم تبادلے میں سکّے لینے سے قبل اُن سے جدا نہیں ہو سکتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چاندی کے بدلے سونے کی تجارت سود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو۔