الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ وَهُوَ بَيْعُ الْوَرَقِ بِالذَّهَبِ نَسِينَةٌ يَعْنِي دينا باب: بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
حدیث نمبر: 5977
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَدِمَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الْبَصْرَةَ فَوَجَدَهُمْ يَتَبَايَعُونَ الذَّهَبَ فَقَامَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً وَأَخْبَرَ أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو قلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بصرہ میں آئے اور وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ (ادھار پر چاندی کے بدلے) سونا خریدتے تھے، پس وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر سونے کو چاندی کے عوض بیچنے سے منع کیا ہے، نیز فرمایا کہ یہ سود ہے۔