الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ وَهُوَ بَيْعُ الْوَرَقِ بِالذَّهَبِ نَسِينَةٌ يَعْنِي دينا باب: بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
حدیث نمبر: 5974
عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّرْفِ فَهَذَا يَقُولُ سَلْ هَذَا فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ وَهَذَا يَقُولُ سَلْ هَذَا فَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ قَالَ فَسَأَلْتُهُمَا فَكِلَاهُمَا يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو منہال کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، لیکن ان میں سے ایک نے کہا: اس سے سوال کرو، کیونکہ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ علم والا ہے اور دوسرے نے کہا: اُس سے سوال کرو، کیونکہ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ علم والا ہے، پھر میں نے اُن دونوں سے سوال کیا اور دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ادھار پر سونے کی چاندی کے ساتھ بیع کی جائے۔