الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بابُ الأَصنافِ الَّتِي يُوجَدُ فِيهَا الرِّبَا باب: ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
حدیث نمبر: 5972
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ قَالَ لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ فروخت کرو ایک دینار دودینارکے عوض، اور نہ ہی ایک درہم دودرہم کے عوض اور نہ ہی ایک صاع، دوصاع کے عوض اس طرح مجھے ڈرہے کہ تم سود میں مبتلاہوجائو گے۔ ایک آدمی کھڑا ہوکر کہنے لگے اے اللہ کے رسول!اس بارے میں آپ کا کیا حکم ہے ؟کہ آدمی ایک گھوڑا زیادہ گھوڑوں کے عوض اور اونٹنی اونٹ کے عوض فروخت کرے۔ آپ نے فرمایا :جب نقد ونقد ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن اس حدیث میں سونے اور چاندی اور جانداروں کی خریدو فروخت سے متعلقہ جو دو مسئلے بیان کیے گئے، وہ دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔