حدیث نمبر: 5968
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ كَانَ أُنَاسٌ يَبِيعُونَ الْفِضَّةَ مِنَ الْمَغَانِمِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ فِيهِ الْأَوْصَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو اشعث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگ مالِ غنیمت میں سے چاندی ملنے تک اس کو بیچ دیتے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کے بدلے سونے کی، چاندی کے بدلے چاندی کی، کھجور کے بدلے کھجور کی، گندم کے بدلے گندم کی، جو کے بدلے جو کی اور نمک کے بدلے نمک کی بیع کرنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ وہ برابر برابر ہوں، جس نے زیادہ دیایا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سودی معاملہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: جب یہ جنسیں مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو خرید و فروخت کر لو، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الربا / حدیث: 5968
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1587 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23059»