الفتح الربانی
أبواب الربا— سود کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِيهِ باب: سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 5955
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر اور اس کا معاملہ لکھنے والے پر لعنت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں بینکوں میں نوکری کرنے والوں کو متنبہ رہنا چاہیے۔
گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اور غضب ِ الہی کا باعث ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ دور میں دنیا کے بہاؤ کو پشت پر وصول کر کے اس کے سیلاب کا تنکہ نہ بنا جائے، بلکہ اس لعنت کی صورتوں کو سمجھا جائے، بالخصوص بینکوں کی پالیسیوں اور معاملات کا بار بار جائزہ لیا جائے۔ موجودہ دور میں مالداروں اور سرکاری ملازمین کی اکثر و بیشتر تعداد سود خوری میں مبتلا ہے۔
گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اور غضب ِ الہی کا باعث ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ دور میں دنیا کے بہاؤ کو پشت پر وصول کر کے اس کے سیلاب کا تنکہ نہ بنا جائے، بلکہ اس لعنت کی صورتوں کو سمجھا جائے، بالخصوص بینکوں کی پالیسیوں اور معاملات کا بار بار جائزہ لیا جائے۔ موجودہ دور میں مالداروں اور سرکاری ملازمین کی اکثر و بیشتر تعداد سود خوری میں مبتلا ہے۔