حدیث نمبر: 5953
عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَ ذَا بِعَشْرَةٍ وَقَالَ ذَا بِعِشْرِينَ قَالَ اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا قَالَ أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ فَقَالَ أَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ يَكُنْ بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ قاسم کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف ہو گیا، اول الذکر نے کہا: یہ دس کا ہے، لیکن مؤخر الذکر نے کہا:یہ بیس کا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے اور اپنے درمیان کسی آدمی کو مقر ر کرو (تاکہ وہ فیصلہ کر دے)۔ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو ہی مقرر کرتا ہوں، یہ سن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر میں وہی فیصلہ کروں گا، جو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیاہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لین دین کرنے والے دو آدمیوں میں اختلاف ہو جائے، جبکہ کسی کے پاس شہادت بھی نہ ہو تو فروخت کرنے والے کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … جب فروخت کنندہ اور خریدار میں متعلقہ چیز کے بارے میں اختلاف پڑ جائے تو اگر کسی کے پاس گواہ ہوں تو ان کی گواہی کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گی، وگرنہ فروخت کنندہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، نہیں تو بات کو طول دیئے بغیر بیع کو فسخ کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب أحكام العيوب / حدیث: 5953
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4447»