الفتح الربانی
أبواب أحكام العيوب— عیوب کے احکام کے ابواب
بابُ مَا جَاءَ فِي اخْتِلَافِ الْمُتَبَايَعَينِ باب: خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 5949
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَفِي لَفْظٍ وَالسِّلْعَةُ كَمَا هِيَ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ مَا يَقُولُ صَاحِبُ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَرَادَّانِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب خریدار اور فروخت کنندہ کا آپس میں اختلاف ہو جائے اور ان کے پاس (اپنے دعوی کی) دلیل بھی نہ ہو، جبکہ سامان ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہو، تو سامان کے مالک کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھردونوں سودا واپس کر دیں گے۔