حدیث نمبر: 5945
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ سَعَّرْتَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ الْمُسَعِّرُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ بھاؤ مقرر فرمادیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی ہی ہے، جو پیدا کرنے والا، کمی کرنے والا، کشادگی کرنے والا، رزق دینے والا اور بھاؤ بڑھانے والاہے، میں اللہ تعالی سے یہ امید رکھتا ہوں کہ جب میں اس کو ملوں تو کوئی بھی خون اور مال کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی حق تلفی کامطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب أحكام العيوب / حدیث: 5945
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3451، وابن ماجه: 2200، والترمذي: 1314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12619»