الفتح الربانی
أبواب أحكام العيوب— عیوب کے احکام کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي دَمِ الاحْتِكَارِ باب: ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
عَنْ أَبِي يَحْيَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَأَى طَعَامًا مَنْثُورًا فَقَالَ مَا هَذَا الطَّعَامُ فَقَالُوا طَعَامٌ جُلِبَ إِلَيْنَا قَالَ بَارَكَ اللَّهُ فِيهِ وَفِيمَنْ جَلَبَهُ قِيلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهُ قَدِ احْتُكِرَ قَالَ وَمَنِ احْتَكَرَهُ قَالُوا فَرُّوخُ مَوْلَى عُثْمَانَ وَفُلَانٌ مَوْلَى عُمَرَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا فَقَالَ مَا حَمَلَكُمَا عَلَى احْتِكَارِ طَعَامِ الْمُصَلِّينَ قَالَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْإِفْلَاسِ أَوْ بِجُذَامٍ فَقَالَ فَرُّوخُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعَاهِدُ اللَّهَ وَأُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أَعُودَ فِي طَعَامٍ أَبَدًا وَأَمَّا مَوْلَى عُمَرَ فَقَالَ إِنَّمَا نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ قَالَ أَبُو يَحْيَى فَلَقَدْ رَأَيْتُ مَوْلَى عُمَرَ مَجْذُومًا۔ مولائے عثمان فروخ نے بیان کیا کہ ایک دن سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ، جو کہ اس وقت امیر المؤمنین تھے، مسجد کی طرف نکلے اور وہاں بکھراہوا اناج دیکھا اور پوچھا: یہ اناج کیسا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ اناج ہمارے لئے باہر سے لایا گیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ تعالیٰ اس میں اور اس کو لانے والے میں برکت ڈالے۔ اتنے میں کسی نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ذخیرہ کیا ہوا مال ہے، انھوں نے پوچھا: کس نے اسے ذخیرہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام فروخ اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے ذخیرہ کیا ہے، انھوں نے ان دونوں کو بلایا، پس وہ آ گئے، انھوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: اے امیرالمومنین! ہم اپنے مالوں سے اسی طرح کی خریدوفروخت کرتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالی اس پر افلاس یا کوڑھ کو مسلط کردیں گے۔ فروخ نے تو اسی وقت کہا: اے امیرالمومنین! میں اللہ تعالیٰ سے اور پھرآپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ اناج میں ذخیرہ اندوزی نہیں کروں گا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نے کہا:ہم اپنے مالوں سے چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ابویحییٰ کہتے ہیں: میں نے بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس غلام کو کوڑھ زدہ دیکھا تھا۔
سعید بن مسیب کا خیالیہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کا تعلق صرف اشیائے خوردنی کے ساتھ ہے۔لیکن ذخیرہ اندوزی کی مذمت کی احادیث عام ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ انسانوں کی ضرورت کا تعلق صرف کھانے پینے کی اشیاء سے نہیں ہے۔