الفتح الربانی
أبواب أحكام العيوب— عیوب کے احکام کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ وَأَنَّ الكَسْبَ الْحَادِثَ لا يمنعُ الرَّدْ بِالْعَيْبِ باب: غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے¤میں رکاوٹ نہیں بنے گی
حدیث نمبر: 5939
عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُهْدَةُ الرَّقِيقِ أَرْبَعُ لَيَالٍ قَالَ قَتَادَةُ وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقُولُونَ ثَلَاثُ لَيَالٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام کی ذمہ داری چارراتوں تک ہے۔ جبکہ قتادہ کہتے ہیں: اہل مدینہ کے نزدیک تین راتیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی اگر کسی غلام میں چار دنوں کے اندر اندر کوئی عیب نظر آ جائے تو اس کو گواہی کے بغیر بیچنے والے کو واپس کر دیا جائے گا اور اگر خریدنے والے نے اس مدت کے بعد کسی عیب کا دعوی کر دیا تو گواہوں کا مطالبہ کیا جائے گا کہ آیا واقعییہ غلام شروع سے معیوب تھا۔ لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔