حدیث نمبر: 5938
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا اسْتَغَلَّهُ ثُمَّ وَجَدَ أَوْ رَأَى بِهِ عَيْبًا فَرَدَّهُ بِالْعَيْبِ فَقَالَ الْبَائِعُ غَلَّةُ عَبْدِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ وَفِي لَفْظٍ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے غلام خریدا اوراس سے فائدہ حاصل کیا، لیکن بعد میں اس نے اس میں ایک عیب دیکھ کر اس کو واپس لوٹا دیا، بیچنے والے نے کہا: میرے غلام کی آمدنی (بھی مجھے دی جائے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آمدنی (اور نفع) ضمانت کے عوض ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اَلْخِرَاج: ایسا فائدہ اور منافع جو فروخت شدہ چیز سے مشتری کو حاصل ہوتا ہے۔ بِالضَّمَانِ: یہ منافع اس کفالت و ذمہ داری کے عوض ہو گا، جو مشتری پر لازم ہو گی۔
اَلْخِرَاجُ بِالضَّمَانِ: اس ترکیب کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی آدمی زمینیا جانور یا غلام یا کوئی چیز خرید کر اس سے منافع حاصل کرتا ہے، پھر وہ اس میں ایسا نقص اور عیب پا لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس چیز کو واپس کر دیتا ہے، اب اس نے اِن دنوں میں اس چیز سے جتنا نفع حاصل کیا ہو گا، وہ اسی خریدار کا ہو گا اور اس منافع کو اس چیز کے ساتھ واپس نہیں کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ چیز عقد اور فسخ کے درمیان والی مدت میںتلف ہو جاتی تو اس کی ذمہ داری خریدار پر ہوتی اور یہ سارا اسی کو نقصان ہوتا، اس لیے آمدن کا حقدار بھی وہی ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب أحكام العيوب / حدیث: 5938
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3510، وابن ماجه: 2243، والترمذي: 1286 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25019»