الفتح الربانی
أبواب أحكام العيوب— عیوب کے احکام کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُصَرَّاةِ باب: اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
حدیث نمبر: 5934
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَحَلَبَهَا فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بِالْخِيَارِ إِلَى أَنْ يَحُوزَهَا أَوْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وہ اونٹنی یا بکری خرید لی، جس کادودھ روکا گیا ہو، تو اسے دو معاملے میں ایک کا اختیار ہو گا، یا تو اس کو اپنی ملکیت میں رکھ لے یا واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ (صاع کے بقدر) برتن اناج کا بھی دے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ((فَھُوَ بِالْخِیَارِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) … ’’اسے تین دنوں تک ایسا جانور واپس کر دینے کا اختیار ہے۔‘‘