الفتح الربانی
أبواب أحكام العيوب— عیوب کے احکام کے ابواب
بَابُ وُجُوبِ تَبِينِ الْعَيْبِ وَعَدَمِ الْغَشِ وَوَعِيدِ مَنْ غَشَ باب: عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 5932
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا اللَّبَنَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ بَيْنَ الرَّغْوَةِ وَالصَّرِيحِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت پرمجھے سب سے زیادہ خوف دودھ کے معاملے کا ہے، کیونکہ شیطان، خالص دودھ اور جھاگ کے درمیان ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دودھ اس امت کے لیے کیسے نقصان دہ ہے؟ درج ذیل حدیث کے مختلف الفاظ پر غور کریں: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّمَا أَخَافُ عَلَی أُمَّتِی الْکِتَابَ وَاللَّبَنَ۔)) قَالَ: قِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! مَا بَالُ الْکِتَابِ؟ قَالَ: ((یَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ یُجَادِلُونَ بِہِ الَّذِینَ آمَنُوا۔)) فَقِیلَ: وَمَا بَالُ اللَّبَنِ؟ قَالَ: ((أُنَاسٌ یُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَیَخْرُجُونَ مِنْ الْجَمَاعَاتِ
وَیَتْرُکُونَ الْجُمُعَاتِ۔)) … ’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر قرآن مجید اور دودھ کے معاملے میں ہے۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’منافق اس کی تعلیم حاصل کر کے مومنوں سے مجادلہ کریں گے۔‘‘ پھر کسی نے کہا: دودھ کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ دودھ کو پسند کریں گے، پھر وہ جماعتوں سے نکل جائیں گے اور جمعہ کی نمازوں کو ترک کر دیں گے۔‘‘ (مسند احمد: ۴/ ۱۴۶، ۱۷۳۱۸)
ایک روایت میں ہے: ((یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَیَتَأَوَّلُونَہُ عَلٰی غَیْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَیَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَیَبْدُونَ۔)) … ’’قرآن کی تعلیم حاصل کر کے اس کی ایسی تاویل کریں گے، جس کے لیے اللہ تعالی نے قرآن مجید کو نازل نہیں کیا، اور دودھ کو پسند کریں گے، پھر (اس کی تلاش میں) جماعتوں اور جمعوں کو چھوڑ کر جنگلوں میں چلے جائیں گے۔‘‘ (مسند احمد: ۴/ ۱۵۵)
ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((أَمَّا اللَّبَنُ فَیَبْتَغُونَ الرِّیفَ وَیَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ وَیَتْرُکُونَ الصَّلَوَاتِ وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَیَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ فَیُجَادِلُونَ بِہِ الْمُؤْمِنِینَ۔)) … ’’رہا مسئلہ دودھ کا تو لوگ میدانوں (اور سرسبززمینوں) کو تلاش کریں اور اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے اور نمازوں کا ترک کر دیں گے اور رہا مسئلہ قرآن مجید کا، اس کی تفصیلیہ ہے کہ منافق اس کی تعلیم حاصل کر کے اس کے ذریعے مومنوں سے مجادلہ کریں گے۔‘‘ (مسند احمد: ۴/ ۱۵۷)
وَیَتْرُکُونَ الْجُمُعَاتِ۔)) … ’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر قرآن مجید اور دودھ کے معاملے میں ہے۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’منافق اس کی تعلیم حاصل کر کے مومنوں سے مجادلہ کریں گے۔‘‘ پھر کسی نے کہا: دودھ کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ دودھ کو پسند کریں گے، پھر وہ جماعتوں سے نکل جائیں گے اور جمعہ کی نمازوں کو ترک کر دیں گے۔‘‘ (مسند احمد: ۴/ ۱۴۶، ۱۷۳۱۸)
ایک روایت میں ہے: ((یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَیَتَأَوَّلُونَہُ عَلٰی غَیْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَیَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَیَبْدُونَ۔)) … ’’قرآن کی تعلیم حاصل کر کے اس کی ایسی تاویل کریں گے، جس کے لیے اللہ تعالی نے قرآن مجید کو نازل نہیں کیا، اور دودھ کو پسند کریں گے، پھر (اس کی تلاش میں) جماعتوں اور جمعوں کو چھوڑ کر جنگلوں میں چلے جائیں گے۔‘‘ (مسند احمد: ۴/ ۱۵۵)
ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((أَمَّا اللَّبَنُ فَیَبْتَغُونَ الرِّیفَ وَیَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ وَیَتْرُکُونَ الصَّلَوَاتِ وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَیَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ فَیُجَادِلُونَ بِہِ الْمُؤْمِنِینَ۔)) … ’’رہا مسئلہ دودھ کا تو لوگ میدانوں (اور سرسبززمینوں) کو تلاش کریں اور اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے اور نمازوں کا ترک کر دیں گے اور رہا مسئلہ قرآن مجید کا، اس کی تفصیلیہ ہے کہ منافق اس کی تعلیم حاصل کر کے اس کے ذریعے مومنوں سے مجادلہ کریں گے۔‘‘ (مسند احمد: ۴/ ۱۵۷)