حدیث نمبر: 5931
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَهُ خَمْرًا فِي سَفِينَةٍ يَبِيعُهُ وَمَعَهُ قِرْدٌ قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ الْخَمْرَ شَابَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ بَاعَهُ قَالَ فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ فَصَعِدَ بِهِ فَوْقَ الدَّقَلِ قَالَ فَجَعَلَ يَطْرَحُ دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ حَتَّى قَسَمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے شراب لی اور اس کو فروخت کرنے کی نیت سے ایک کشتی میں سوار ہوا، جب وہ آدمی شراب بیچتا تو اس میں پانی کی ملاوٹ کر کے فروخت کرتا، اتنے میں بندر نے اس کا تھیلا پکڑا اور بادبان کے ڈنڈے پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور ایک ایک کشتی میں ڈالنے لگا، یہاں تک کہ سارے دینار تقسیم کر دیئے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت دراصل سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کاقول ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے، جب شراب حلال تھی، بندر نے شراب کی اصل قیمت کشتی میں اور ملاوٹ والی قیمت سمندر میں گرا کر ضائع کر دی۔
تمام روایات اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ کسی مسلمان کو کسی سے دھوکہ نہیں کرنا چاہیے اور اپنے چیز کو فروخت کرتے وقت اس کے عیوب کی وضاحت کر دینی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب أحكام العيوب / حدیث: 5931
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم، وقد شك حماد في رفعه، ووقفه ھو الصواب عندنا۔ أخرجه البيھقي في ’’الشعب‘‘: 5308 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8041»