الفتح الربانی
أبواب أحكام العيوب— عیوب کے احکام کے ابواب
بَابُ وُجُوبِ تَبِينِ الْعَيْبِ وَعَدَمِ الْغَشِ وَوَعِيدِ مَنْ غَشَ باب: عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 5930
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَقَدْ حَسَّنَهُ صَاحِبُهُ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا طَعَامٌ رَدِيءٌ فَقَالَ بِعْ هَذَا عَلَى حِدَةٍ وَهَذَا عَلَى حِدَةٍ فَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، اس کے مالک نے اس کو بہت خوبصورت انداز میں رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنادست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو کیا دیکھا کہ وہ تو ردی اناج تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس کو علیحدہ فروخت کرو اوراس کو علیحدہ، جس نے ہم سے دھوکہ کیا،وہ ہم میں سے نہیں۔