الفتح الربانی
أبواب الشروط فى البيع— تجارت میں شرطوں کے ابواب
بَابُ إِثْبَاتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ باب: مجلس کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 5923
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فروخت کرنے والے اور خریدنے والے، دونوں کو جدا ہونے سے پہلے سودا واپس کرنے کا اختیار حاصل ہے، الا یہ کہ اختیار والا سودا ہو اور یہ حلال نہیں ہے کہ آدمی سودے کی واپسی کے ڈر سے جدائی اختیار کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں اس چیز کو خلاف مروت قراردیاگیا ہے کہ جلدی سے تجارت کے بعد جگہ بدل لینا تاکہ ساتھی کوتجارت کی واپسی کا موقع نہ مل سکے، اسلامی معاشرت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تجارت کا تعلق حصول دنیا سے اس طرح نہیں ہے کہ کسی دوسرے بھائی کے اختیار کا خیال ہی نہ رکھا جائے، جب چیز کو خریدنے والا یہ اندازہ کر لے کہ وہ اس چیز سے واقعی منافع حاصل کر سکے گا، پھر بھی اس کو اس نیت سے مجلس سے دور ہو جانے کی اجازت نہیں کہ فروخت کنندہ کا واپس کر لینے کا اختیار ختم ہو جائے۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تجارت کا تعلق حصول دنیا سے اس طرح نہیں ہے کہ کسی دوسرے بھائی کے اختیار کا خیال ہی نہ رکھا جائے، جب چیز کو خریدنے والا یہ اندازہ کر لے کہ وہ اس چیز سے واقعی منافع حاصل کر سکے گا، پھر بھی اس کو اس نیت سے مجلس سے دور ہو جانے کی اجازت نہیں کہ فروخت کنندہ کا واپس کر لینے کا اختیار ختم ہو جائے۔