الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَالصَّلَاةِ بِهَذَا الْوُضُوءِ باب: وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 592
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يُشَبِّكْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ فِي الصَّلَاةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے اور پھر نماز کے قصد سے نکل پڑتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں میں تشبیک نہ ڈالا کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا تشبیک ہے، یہ اس وقت منع ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے جا رہا ہو یا نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو۔