الفتح الربانی
أبواب الشروط فى البيع— تجارت میں شرطوں کے ابواب
بَابُ شَرْطِ السَّلَامَةِ مِنَ الْغَيْنِ وَالْحَدَاعِ فِي الْبَيْعِ باب: تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ قِصَّةً فِيهَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ خُيِّرَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا وَبَيْنَ آنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ فَاخْتَارَ الْآنِيَةَ قَالَ فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنْ دَارِينَ فَبَاعَهُمْ إِيَّاهَا الْعَشْرَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ثُمَّ لَقِيَ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ خَدَعْتُهُمْ قَالَ كَيْفَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرُدَّنَّهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا۔ محمد ایک قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب وہ آئے توعبداللہ کو تیس ہزار اورچاندی کے برتنوں کے درمیان اختیار دیاگیا، انہوں نے برتن کو اختیار کیا، پھر جب (بحرین کے علاقے) دارِ ین سے تا جر آئے تو عبداللہ نے ان کو اس چاندی کے دس برتن، تیرہ برتنوں کے عوض فروخت کر دیئے، پھر جب وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملے تو کہا: کیا تمہیں پتہ چلا ہے کہ میں نے ان کو کیسے دھوکہ دیا ہے؟ انھوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ پھر اس نے ساری تفصیل بتائی،یہ سن کر سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھ پر عزم کرتا ہوں یا تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو یہ سودا واپس کر دے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس قسم کی تجارت سے منع کرتے تھے۔