حدیث نمبر: 5915
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص غلام فروخت کرے اور غلام کے پاس مال ہوتو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا اور اس غلام کا قرض بھی اسی بائع کے ذمہ ہو گا، الا یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔

وضاحت:
فوائد: … اصل مسئلہ یہ ہے کہ تجارت کی ممنوعہ صورتوں اور شرطوں کا علم ہوناچاہیے، ہر وہ شرط جو شریعت کی کسی شق کی مخالفت نہیں کرتی اور جس سے شریعت نے منع نہیں کیا، وہ جائز ہو گی۔
فِيهِ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَمَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُهَا لَهُمْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ انظر فتح الربانی: 2/2300
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جب انھوں نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ وَلاء ان کی ہو گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خریدکر آزاد کر دو، وَلاء صرف اسی کی ہوتی ہے، جوآزاد کرتاہے۔

وضاحت:
فوائد: … وَلاء ایک رشتہ اور تعلق ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں، وَلاء صرف آزاد کنندہ کا حق ہے اور یہ حق بھی نسب کی طرح کا ہے، اس لیے نہ اس کو فروخت یا ہبہ کیا جا سکتاہے اور نہ شرط کے ذریعے اصل مستحق کو محروم کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الشروط فى البيع / حدیث: 5915
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14376»