الفتح الربانی
أبواب الشروط فى البيع— تجارت میں شرطوں کے ابواب
بَابُ اشْتَرَاطِ مَنْفَعَةِ الْمَبِيعِ وَمَا فِي مَعْنَاهُ باب: تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص غلام فروخت کرے اور غلام کے پاس مال ہوتو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا اور اس غلام کا قرض بھی اسی بائع کے ذمہ ہو گا، الا یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔
فِيهِ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَمَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُهَا لَهُمْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ انظر فتح الربانی: 2/2300۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جب انھوں نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ وَلاء ان کی ہو گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خریدکر آزاد کر دو، وَلاء صرف اسی کی ہوتی ہے، جوآزاد کرتاہے۔