حدیث نمبر: 59
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ)) قَالَ: ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: ((التَّقْوَى هَاهُنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام (اعضاء سے متعلقہ) علانیہ چیز ہے اور ایمان دل سے متعلقہ مخفی چیز ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ کیا اور پھر فرمایا: ”تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … تقوی اور پرہیز گاری کی بنیاد دل ہی ہے، لیکن جب دل میں تقوی پیدا ہو جائے تو اعضاء و جوارح اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، یعنی دل میں تقوی ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وجود کا رجحان بھی نیکیوں کی طرف ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 59
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به علي بن مسعدة، وھو ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواھد، وأما قوله التقوي ھھنا فله شاھد من حديث ابي ھريرة عند مسلم: 2564۔ أخرجه ابو يعلي: 2923، والبزار: 20 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12408»