حدیث نمبر: 587
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَةِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَ بِهَا مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَةِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے کا ہر وہ گناہ زائل ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھ سے ہر وہ گناہ ساقط ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے ہاتھ پھیلایا ہوتا ہے، (باقی اعضا کا بھی یہی سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے باب میں انتہائی واضح ہیں، ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے، ہمیں چاہیے کہ ان فضیلتوں کو حاصل کرنے کے لیے وضو کو صرف نماز کے ساتھ خاص نہ کریں، بلکہ ان کے علاوہ جب بھی موقع ملا، یہ سعادت حاصل کی جائے، خصوصا سوتے وقت، وضو کا ایک خارجی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مسلمان اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 587
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 244 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8007»