حدیث نمبر: 585
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ نَارٍ)) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، تین دفعہ بازو دھوئے اور پھر اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے کو مسح کیا اور پھر ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس نے مجھے ہنسایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کے قریب تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر مسکرا پڑے اور فرمایا: ’کیا تم لوگ مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس کی وجہ سے میں مسکرایا ہوں؟‘ لوگوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’بیشک جب بندہ وضو کا پانی منگوا کر چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے ہر اس گناہ کو مٹا دیتا ہے، جس کا چہرے نے ارتکاب کیا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ مسح کرتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔‘“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 585
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن حبان: 1052، 2555 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17597»