الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَإِسْبَاغِهِ باب: وضو کی فضیلت اور اس کو پوری طرح کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأُذُنَيْهِ) خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً))سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے غلطیاں نکل جاتی ہیں، جب وہ ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک سے خطائیں گر جاتی ہیں، جب وہ چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کی جڑوں سے بھی گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اس کے بازوؤں سے خطائیں نکل جاتی ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گر جاتی ہیں، جب وہ سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے، (اور پاؤں کے دھونے سے) پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر مسجد کی طرف اس کا چل کر جانا اور نماز ادا کرنا زائد ہوتا ہے۔“