الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَإِسْبَاغِهِ باب: وضو کی فضیلت اور اس کو پوری طرح کرنے کا بیان
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: أَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يَتَفَلَّلُ فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ)) قَالَ: فَجَاءَ أَبُو ظَبْيَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ؟ فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي حَدَّثَنَا، قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ذَكَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ يَبِيتُ عَلَى طُهُورٍ ثُمَّ يَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَذْكُرُ وَيَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِيَّاهُ))شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھ کر جوئیں صاف کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ گر جاتے ہیں۔“ اتنے میں ابو ظبیہ رحمہ اللہ آ گئے، جبکہ وہ ہمیں بیان کر رہے تھے، پھر انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا بیان کر رہے تھے؟ پس ہم نے ان کو وہ چیز بتائی جو وہ بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ”جی ہاں، میں نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا، بلکہ اس میں یہ الفاظ زائد بھی تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے، یعنی وضو کر کے سوتا ہے، پھر جب وہ رات کو اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو وہ اس کو عطا کر دیتا ہے۔‘“