الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي بَيَانِ الإِيمَانِ وَالإِسْلامِ وَالإِحْسَانِ باب: ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ((وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْجُفَاةُ، وَفِيهِ: وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ)) وَفِيهِ بَعْدَ ذِكْرِ الْآيَةِ زِيَادَةُ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ)) فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ: ((هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ))سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: جب ننگے جسموں اور ننگے پاؤں والے اکھڑ مزاج اور سنگ دل لوگ، جب چھوٹی چھوٹی بھیڑ بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کریں گے۔ آیت کے بعد یہ الفاظ بھی اس روایت میں ہیں: پھر وہ آدمی چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کو دوبارہ میرے پاس بلاؤ۔“ لوگوں نے اسے تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانا چاہا، لیکن وہ سرے سے اسے دیکھ ہی نہ سکے (کہ کہاں گیا ہے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، جو لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔“