الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَإِسْبَاغِهِ باب: وضو کی فضیلت اور اس کو پوری طرح کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَبُ وَضُوءَهُ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ حِينَ يَنْتَثِرُ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِهِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ)) قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ! انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ أَيُعْطَى الرَّجُلُ هَذَا كُلَّهُ فِي مَقَامِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو بْنُ عَبَسَةَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظَمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، لَقَدْ سَمِعْتُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَسیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وضو کے بارے میں مجھے بتائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں جو آدمی بھی وضو کا پانی قریب کرتا ہے، پھر کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک کو جھاڑتا ہے، مگر جب وہ ناک کو جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور نتھنوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھوتا ہے تو انگلیوں کے پوروں سے بازوؤں کی غلطیاں نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے سر کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو اس کی انگلیوں کے کناروں سے اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، جو اس کے شایان شان ہوتی ہے اور پھر دو رکعتیں ادا کرتا ہے تو وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔“ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے عمرو بن عبسہ! ذرا اپنی کہی ہوئی بات پر غور کرو، کیا تم نے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ کیا بندے کو یہ سب کچھ ایک مقام پر ہی عطا کر دیا جاتا ہے؟“ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں، میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یا دو یا تین دفعہ سنا ہوتا (تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا) تو میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سات یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنا ہے۔“