حدیث نمبر: 576
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا دَخَلُوا عَلَى ابْنِ عَامِرٍ فِي مَرَضٍ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عامر کی بیماری کے دوران کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں تجھے دھوکہ دینے والوں میں سے نہیں ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کے مال سے صدقہ اور وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا۔‘“

وضاحت:
فوائد: … ابن عامر کا نام امیر عبداللہ ہے۔ یہ عثمانِ غنیؓ کی طرف سے بصرہ کے گورنر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ لوگ جب ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے تو انہوں نے ان کی تعریف کی۔ عبداللہ بن عمرؓ اس وقت امیر عبداللہ کے پاس تھے۔ ان کو لوگوں کا تعریف کرنا پسند نہ آیا تو انہوں نے اس موقع پر خیانت کی خدمات کے حوالہ سے زیرِ نظر حدیث سنائی۔ مقصد یہ تھا کہ امیر کی حیثیت سے آدمی سے کوتاہیاں ہو ہی جاتی ہیں۔ تو امیر کی تعریف کرنے کے بجائے اسے توبہ و استغفار کی تلقین ہونی چاہیے نہ کہ اس کی تعریف کر کے اس کی توجہ گناہوں اور کوتاہیوں سے ہٹائی جائے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4700»