حدیث نمبر: 572
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطْرَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا)) قَالَ: وَسَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: «اللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا» … ”اے اللہ! نفع مند بارش نازل فرما۔“ شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو کسی چیز سے ابتدا کرتے تھے، انہوں نے کہا: ”مسواک سے۔“

وضاحت:
فوائد: … نیند، گفتگو اور کچھ دیر گزر جانے سے معدہ کے بخارات کی وجہ سے منہ میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسے اوقات میں مسواک کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 572
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 164، وأخرجه مسلم: 253 دون القسم الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24645»