حدیث نمبر: 57
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا لَهُ فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدِّثْنِي بِالْإِسْلَامِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَحَدِّثْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَتُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَبِالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ: ((إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدِّثْنِي مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ! فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ)) قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ تَطَاوَلُوا بِالْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُؤُوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ؟ قَالَ: ((الْعَرَبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، اتنے میں جبریل علیہ السلام آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ہتھیلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیں اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں بیان کرو کہ وہ کیا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع کر دے اور یہ شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”جب میں یہ امور سرانجام دے دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، جب تو یہ اعمال کرے گا تو تو مسلمان ہو جائے گا۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پر، نبیوں پر، موت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر، جنت و جہنم پر، حساب اور میزان پر اور ساری کی ساری تقدیر پر، وہ اچھی ہو یا بری۔“ انہوں نے کہا: ”جب میں یہ اعمال کروں گا تو مومن ہو جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، جب تو ایسا کرے گا تو مومن ہو جائے گا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تو بتلا دو کہ احسان کیا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح عمل کرے کہ گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے، پس اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بیشک وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ بیان کرو کہ قیامت کب آئے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، اس کا تعلق تو غیب والی ان پانچ چیزوں سے ہے، جن کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورہ لقمان: ۳۴)، البتہ اگر تو چاہتا ہے تو میں تجھے اس کی علامتیں بیان کر دیتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بیان کریں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو دیکھے گا کہ لونڈی اپنی مالکہ یا آقا کو جنم دے گی اور بکریوں کے چرواہے عمارتوں میں فخر کرنے لگیں گے اور ننگے پاؤں والے بھوکے اور فقیر لوگوں کے سردار بن جائیں گے، یہ قیامت کی علامتیں ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بکریوں کے چرواہوں اور ننگے پاؤں والے بھوکوں اور فقیروں سے کون لوگ مراد ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 57
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه البزار: 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2924»