حدیث نمبر: 568
عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحْبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِي وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا [الْحَدِيثُ سَيَأْتِي بِطُولِهِ فِي بَابِ صِفَةِ الْوُضُوءِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو مطر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھاؤ،“ یہ زوال کا وقت تھا، پس انہوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: ”پانی کا برتن میرے پاس لاؤ،“ پس انہوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث باب صفة الوضوء میں آئے گی۔)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 568
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع ولجھالة ابي مطر البصري ۔ أخرجه عبد بن حميد: 95 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1356»