الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي بَيَانِ الإِيمَانِ وَالإِسْلامِ وَالإِحْسَانِ باب: ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
حدیث نمبر: 56
عَنْ أَبِي عَامِرِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ثُمَّ وَلَّى (أَيْ السَّائِلُ) فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِيقَهُ بَعْدُ قَالَ (أَيْ النَّبِيُّ) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ! ثَلَاثًا، هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جَاءَنِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پھر وہ سوال کرنے والا آدمی چلا گیا، جب ہمیں اس کا کوئی راستہ نظر نہ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! سبحان اللہ! سبحان اللہ! (یعنی بڑا تعجب ہے) یہ جبریل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو دین سکھلانے کے لیے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ جب بھی میرے پاس آتے تھے تو میں ان کو پہچانتا ہوتا تھا، ماسوائے اس دفعہ کے۔“