حدیث نمبر: 559
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُتِيَ، فَقَالَ: ((مَا لِي أَرَاكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا، اسْتَاكُوا، لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس اس حال میں آئے ہو کہ تمہارے دانتوں پر میل کچیل اور زردی نظر آ رہی ہے، مسواک کیا کرو، اگر امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں نے مسواک کو وضو کی طرح فرض کر دینا تھا۔“

وضاحت:
فوائد: … امام صنعانی نے کہا: مسواک کی فضیلت میں ایک سو سے زیادہ احادیث منقول ہیں، لیکن بڑا تعجب ہے کہ اتنی کثیر احادیث کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے بلکہ کئی فقہاء نے غفلت برتی ہے، پس یہ بڑی ناکامی ہے۔ (سبل السلام: ۱/ ۴۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 559
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو علي الزراد مجھول۔ أخرجه البزار: 498، والطبراني: 1301 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:1835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1835»