الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ باب: مسواک کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 558
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَنُّ فَأَعْطَى أَكْبَرَ الْقَوْمِ وَقَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ أَمَرَنِي أَنْ أُكَبِّرَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک لوگوں کے بڑے آدمی کو دے دی اور فرمایا: ”بیشک جبریل علیہ السلام نے مجھے بڑے آدمی کو مسواک دینے کا حکم دیا۔“
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَرَانِیْ اَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَائَ نِیْ رَجُلَانِ اَحَدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْاَصْغَرَ مِنْھُمَا فَقِیْلَ لِیْ: کَبِّرْ، فَدَفَعْتُہٗ اِلَی الْاَکْبَرِ مِنْھُمَا)) … میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں مسواک کر رہا تھا، پس میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، پس جب میں نے چھوٹے کو مسواک پکڑانا چاہی تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو دو، پس میں نے بڑے کو دے دی۔ (صحیح بخاری: ۲۴۶)