حدیث نمبر: 55
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى (وَفِي رِوَايَةٍ لَا نَرَى) عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ مَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ: ((الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا)) قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: ((الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ)) قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: ((مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ)) قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا، قَالَ: ((أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ)) قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ، قَالَ: فَلَبِثَ مَلِيًّا، (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَبِثَ ثَلَاثًا) فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عُمَرُ! أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟)) قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ سیاہ تھے، نہ تو اس پر سفر کی کوئی علامت نظر آ رہی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا، بہرحال وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیے اور کہا: ”اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ کہ اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔“ اس نے آگے سے کہا: ”آپ نے سچ کہا ہے۔“ ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ یہ شخص سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ بہرحال اس نے پھر سوال کیا اور کہا: ”آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور ساری کی ساری تقدیر، وہ اچھی ہو یا بری، پر ایمان لائے۔“ اس نے کہا: ”جی، آپ نے سچ کہا ہے۔“ اس نے تیسرا سوال کرتے ہوئے کہا: ”اب آپ مجھے احسان کے بارے میں بتائیں، احسان کیا ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔“ اس نے پھر سوال کیا: ”آپ مجھے قیامت کے بارے میں بتائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسئول، قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔“ اس نے کہا: ”تو پھر آپ مجھے اس کی علامتوں کے بارے میں بتا دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یہ ہیں: لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی، تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسموں والے بکریوں کے چرواہے عمارتوں پر غرور کریں گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر وہ بندہ چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ زمانے، ایک روایت کے مطابق تین دنوں تک اس کے بارے میں خاموش رہے اور پھر مجھ سے فرمایا: ”عمر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سائل کون تھا؟“ میں نے کہا: ”جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ِ جبریل ہے، ایمان اور اسلام کا معاملہ تو واضح ہے اور احسان کسی تیسری چیز کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا ایک انداز ہے اور وہ یہ کہ عبادت میں ایسی پختگی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے، اس کے مراقبے کا نظریہ مضبوط کر لیا جائے، تمام دنیوی معاملات کو خیر آباد کہہ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور قائم کر لیا جائے اور دورانِ عبادت اس کی عظمت و جلالت کا استحضار کیا جائے۔ یہ عبادت کا وہ انداز ہے، جس سے دل میں راحت پیدا ہوتی ہے اور جس کی مقدار میں اضافہ کرنے کی خواہش بڑھتی چلی جاتی ہے۔
لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی۔ اس کا راجح مفہوم یہ ہے کہ والدین کی نافرمانی عام ہو جائے گی اور اولاد کا اپنے ماں باپ کو ڈانٹنا، ان کو برا بھلا کہنا، ان پر سب و شتم کرنا اور ان پر حکم چلانا، اس کا انداز ایسے ہی ہو گاجیسے آقا اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ رویہ اختیار کرتا ہے، آج کل والدین کی نافرمانی عروج پر ہے اور جب اولاد گستاخانہ رویے پر اترتی ہے تو کوئی شریف یہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا ہے کہ آیا یہ باپ بیٹا ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 55
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 8، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 367»