الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ باب: پیشاب سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 543
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: ((إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ (وَقَالَ وَكِيعٌ: مِنْ بَوْلِهِ) وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”بیشک ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔“ (مسند احمد: 1980)
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ،وَاِنَّہٗ لَکَبِیْرٌ … اور ان کو مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، اور وہ بڑے گناہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا اور چغلی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق یہ دو مسلمان تھے، ان کو بقیع میں دفن کیا گیا تھا، البتہ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود نہیں تھے، یہ تفصیل ایک روایت کے ان الفاظ سے ثابت ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ دَفَنْتُمُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا؟)) … آج تم لوگوں نے یہاں کن کو دفن کیا ہے۔ اس قسم کی احادیث سے ہمیں متنبہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ ہماری ان ہستیوں سے کیا نسبت ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر براہِ راست ایمان لائی تھیں۔ جب وہ عظیم ہستیوں میں شامل ہونے کے باوجود مذکورہ کوتاہیوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہو گئے تو ہم ان کمزوریوں کی وجہ سے عذاب الٰہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)