حدیث نمبر: 54
عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ فَتَقُولُ: يَا رَبِّ! أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، فَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ فَتَقُولُ: يَا رَبِّ! أَنَا الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَنَا الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! أَنْتَ السَّلَامُ وَأَنَا الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي، فَقَالَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مدینہ منورہ میں تھے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت والے دن اعمال آئیں گے، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) نماز آئے گی اور کہے گی: اے میرے رب! میں نماز ہوں،“ اللہ تعالیٰ کہے گا: ”بیشک تو خیر پر ہے۔“ اسی طرح صدقہ آ کر کہے گا: ”اے میرے رب! میں صدقہ ہوں،“ اللہ تعالیٰ کہے گا: ”بیشک تو خیر پر ہے۔“ پھر روزہ آ کر کہے گا: ”اے میرے رب! میں روزہ ہوں،“ اللہ تعالیٰ کہے گا: ”بیشک تو خیر پر ہے۔“ پھر دوسرے اعمال آئیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ» جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہو گا۔ (سورہ آل عمران: ۸۵)

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر عمل کو ایک خاص وجود عطا کرے گا، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اس حدیث ِ مبارک کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ آخرت میں نجات کے لیے اسلام کا سہارا لینا ضروری ہے، ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور بالخصوص اپنے گھروں میں اسلام کو نافذ کریں، دورِ حاضر کے اکثر مسلمانوں میں بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ اسلام کی چند شقوں پر عمل کر کے اپنے آپ کو کامل مسلمان سمجھ بیٹھے ہیں، اس نظریے کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں جمود اور ٹھہراؤ آ گیا ہے اور ان میں مزید عمل کی خواہش ہی ختم ہو گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 54
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عباد بن راشد ضعفه ابن معين و ابوداود و ابن حبان۔ أخرجه ابويعلي: 6231، والطبراني في الاوسط : 7607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8727»