حدیث نمبر: 5393
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْجَاهَا أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَأَنْجَاهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ فَجَاءَتْ قَرَابَةٌ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ صُومِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے بحری سفر کیا اور یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس سفر سے نجات دی تو وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی، جب اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دلا دی تو ابھی اس نے روزے نہیں رکھے تھے کہ وہ فوت ہو گئی، اس کی ایک رشتہ دار خاتون، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس کا سارا ماجرا سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی طرف سے روزے رکھ۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ، صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔)) جو آدمی مرجائے اور اس پر روزے ہوں، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (بخاری، مسلم)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 5393
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1861»