الفتح الربانی
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے مسائل
بَابُ أَن مَنْ نَذَرَ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الأقصى أَجْزَاء أَنْ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ باب: مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ¤مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
حدیث نمبر: 5391
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ صَلِّ هَاهُنَا فَسَأَلَهُ فَقَالَ صَلِّ هَاهُنَا فَسَأَلَهُ فَقَالَ شَأْنَكَ إِذًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے فتح مکہ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مکہ فتح کر دیا تو میں بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر یہی سوال دوہرا دیا، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی کر۔